مضامین / مسلم لیگ ن کے لئے ایک اور امتحان
آخر کار سپریم کورٹ آف پاکستان نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کو پارٹی کی صدارت سے بھی محروم کر دیا۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے یہ فیصلہ اپوزیشن کی
آخر کار سپریم کورٹ آف پاکستان نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کو پارٹی کی صدارت سے بھی محروم کر دیا۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے یہ فیصلہ اپوزیشن کی
کیا پاکستان میں پارلیمنٹ سپریم ہے؟ یہ وہ سوال ہے جو آنے والے دنوں میں ایک بار پھر سے دہرایا جانے والا ہے۔ ایک نا اہل شخص کے پارٹی سربراہ بننے سے متعلق سپریم
پچھلے چند ہفتوں سے اسلام آباد پریس کلب کے سامنے فاٹاکے قبائلی افراد دھرنا دیئے بیٹھے ہیں۔ کراچی پولیس کے ہاتھوں ایک نوجوان نقیب اللہ محسود کے ماورائے عدالت قتل
پچھلے چند ہفتوں میں سپریم کورٹ آف پاکستان سے آنے والی خبروں کو دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہم ایک بار پھر سے جوڈیشل ایکٹوازم کے دور میں داخل ہو گئے ہیں۔ اس سے
پچھلے چند سالوں میں ہونے والے افسوسناک واقعات کی فہرست مرتب کی جائے تو ان میں جو قدر مشترک پائی جائے گی وہ ہمارے ملکی نظام کی خرابی ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ دنیا کے
قصور میں ہونے والے دلخراش واقعہ نے قوم کو بری طرح سے جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ ننھی زینب پر گزرنے والی قیامت نے ہر آنکھ کو اشکبار کر دیا ہے۔ پچھلے کئی روز سے میڈیا
دنیا بھر میں عدالتیں انصاف کی علامت سمجھی جاتی ہیں، ترقی پذیر ممالک میں جہاں دوسرے ریاستی اداروں کی ساکھ کچھ اچھی نہیں ہوتی وہاں عوام عدلیہ سے ہی داد رسی کی
پانامہ کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں نا اہل قرار پانے والے وزیر اعظم نوازشریف نے منصب چھن جانے کے بعداپنے آبائی شہر لاہور کا رخ کیا، وہ یہ سفر ہوائی
مسلم لیگ ن نے اپنے حالیہ دور حکومت میں پارلیمان کی بالادستی اور پارلیمانی جمہوریت کی مضبوطی کا راگ الاپا تو مجھ جیسے بہت سے جمہوریت پسند لوگ سمجھے کہ شاید اپنے
اس سال تیس نومبر کو پاکستان پیپلز پارٹی اپنا پچاسواں یوم تاسیس منانے جا رہی ہے۔ نصف صدی بیت گئی ہے لیکن وہ دن اور واقعات آج بھی میرے ذہن میں نقش ہیںاور میں بھول
اس ہفتے ہونے والے دو اہم فیصلوں نے آنے والے انتخابات کے بارے میں ہونے والی قیاس آرائیوں کو کسی حد تک کم کر دیا ہے۔ اس میں سب سے اہم فیصلہ کونسل آف کامن انٹرسٹ
کیا موجودہ سیاسی حالات میں قبل از وقت انتخابات انتہائی ناگزیر ہو گئے ہیں؟ یہ وہ سوال ہے جو آج کل ہر کسی کی زبان پر ہے۔ پاکستان کی پارلیمنٹ میں تیسری بڑی جماعت