دنیا بھر میں عدالتیں انصاف کی علامت سمجھی جاتی ہیں، ترقی پذیر ممالک میں جہاں دوسرے ریاستی اداروں کی ساکھ کچھ اچھی نہیں ہوتی وہاں عوام عدلیہ سے ہی داد رسی کی اپیل کرتے دکھائی دیتے ہیں، ہمارے ملک میں چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے زمانے میں عدالت عالیہ نے مفاد عامہ کو بنیاد بنا کر بہت سے کیسز کو سنا، پاکستان کے آئین کے آرٹیکل ایک سو چوراسی تین میںدیئے گئے اختیارت کے تحت سپریم کورٹ آف پاکستان نے بہت سارے معاملات میں ازخود نوٹس لینا شروع کر دیا، پاکستان کے قانونی حلقوں میں جوڈیشل ایکٹوازم کی صدائیں سنائی دینے لگیں، مارگلا کی پہاڑیوں میں پتھر توڑنے والی فیکٹریوں سے لیکر لاہور کی نہر کو ہیریٹیج پارک بنانے تک، سپریم کورٹ نے سینکڑوں کیسزاز خود نوٹس کی بنیاد پر سنے، پچھلی حکومت کے آخری دنوں میں تو حالات اس نہج پر پہنچ چکے تھے کہ سرکاری افسران سپریم کورٹ میں طلب کئے جانے سے خوفزدہ ہو کر امور سرکار نبٹانے سے تقریبا انکاری ہی تھے، اورطلب کیا جانا بھی ہر چند کوئی مشکل کام نہیں تھا، یہاں ٹی وی چینل پر خبر چلی، وہاں سپریم کورٹ کی طرف سے بلاو آگیا، ہر طرف فوری اورسستے انصاف کا بول بالا تھا، سپریم کورٹ کے جوڈیشل ایکٹوازم کا زیادہ تر نقصان اس وقت کی حکمران جماعت پیپلز پارٹی کو ہوا، حکومتی وزرا کی ایک بڑی تعداد وقتاًفوقتاً سپریم کورٹ کے سامنے پیش ہوتی رہی، پیپلز پارٹی کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو عدالت عالیہ نے توہین عدالت کامرتکب ٹھہر اکر انہیں وزرات عظمی ٰکے منصب کیلئے نا اہل قرار دیدیا، پیپلز پارٹی کے ہی وزیر مذہبی امور کو مبینہ طور پر حج آپریشن میں کرپشن کرنے کی پاداش میں جیل تک بھیج دیا گیا، اس وقت کی سپریم کورٹ نے جوڈیشل ایکٹوازم کو بنیاد بنا کر پاپولر فیصلے کرنے شروع کر دیئے تھے، اور جب عوامی مقبولیت حاصل کرنا مقصود ہو تو پھر بہت سے قانونی پہلووں کو نظر انداز کیا ہی جا سکتا تھا، وزیر مذہبی امور کا قصہ ہی دیکھ لیں، حج اسکینڈل کی سپریم کورٹ میں سماعت سے تو ایسا معلوم ہوتا تھا کہ جیسے حامد سعید کاظمی کچھ نہ کچھ کرتے پکڑے گئے ہیں، لیکن بعد ازاں جب ان پر کیس چلایا گیا تو کچھ بھی نہیں ملا، آخر کار حامد سعید کاظمی کو باعزت بری کر دیا گیا، حامد سعید کاظمی سپریم کورٹ کی پاپولسٹ اپروچ کا نشانہ بننے والے واحد فرد نہیں تھے، اس وقت کئے گئے پاپولر فیصلوں سے صرف افراد ہی متاثر نہیں ہوئے، ریاست پاکستان کو بھی ان فیصلوں سے کافی نقصان پہنچا، چاہے بلوچستان میں معدنیات سے متعلق کیس ہو یا پھر ترکی سے آنیوالا پاور پلانٹ، غیر ملکی کمپنیوں سے کئے جانیوالے معاہدوں کا خیال نہ کرتے ہوئے ایسے فیصلے کئے گئےجن کہ معاشی نتائج ریاست پاکستان کو بھگتنے ہوں گے، ریکوڈک کیس میں ہی اربوں ڈالر کے ہرجانے کئے جانے کا امکان ہے جبکہ ترکی کی کمپنی کو بھی ایک عالمی عدالت نے ایک سو ساٹھ ارب روپے ہرجانے میں دینے کافیصلہ دیدیا ہے، عوامی مقبولیت کے فیصلے کرنے کی جلدی میں اس وقت کی سپریم کورٹ نے بہت سے ایسے فیصلے کئے جوشایدا پنی قانونی کمزوریوں کے باعث کبھی پریسی ڈینٹ کے طور پر استعمال نہ کئے جاسکیں،، جسٹس افتخار چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ نے پاپولر فیصلے کرنے کی جو روایت ڈالی اسے بعد میں آنے والے چیف جسٹس صاحبان اس حد تک قائم نہ رکھ سکے جسکی بنیاد افتخار چوہدری نے رکھی تھی، دو ہزار تیرہ کے بعد سپریم کورٹ کی جانب سے لئے جانے والے از خود نوٹسز کی تعداد بھی بہت حد تک کم ہو گئی، ایسا محسوس ہوا کہ جیسے بطور ادارہ سپریم کورٹ آف پاکستان کو یہ احساس ہو گیا تھا کہ عوامی مقبولیت حاصل کرنے کی خاطر کئے گئے فیصلوں میں قانونی تقاضے پورے نہ کر پانے کے باعث سپریم کورٹ کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے، شاید یہی وجہ ہے کہ سپریم کورٹ نے دو ہزار تیرہ کے بعد سے خود کو سپاٹ لائٹ سے ہٹانے کی کوشش شروع کر دی تھی، بہت سے مراحل پر سپریم کورٹ نے اپنے رویے سے یہ احساس بھی دلانے کی کوشش کی کہ سیاسی معاملات سے سپریم کورٹ کو دور ہی رکھا جائے اور فریقین کسی دوسرے فورم پر اپنے مسائل کو حل کرنے کی کوشش کریں، اسی طرح ایڈمنسٹریٹو معاملات میں عمل دخل کے معاملے میں بھی دو ہزار تیرہ کے بعد والی سپریم کورٹ نے بہت تحمل سے کام لیا، لیکن اب اس رویے میں پھر سے کچھ تبدیلی آرہی ہے، شاید اسکا آغاز پانامہ کیس سے ہوا،، جب دیگر ریاستی ادارے پاناا کے بارے میں کچھ بھی کرنے میں ناکام رہے تو پھر سپریم کورٹ نے آرٹیکل ایک سو چوراسی تین کے تحت اس کیس کو سننے کی حامی بھر لی، پھر جوں جوں کیس چلتا گیا دیگر ریاستی اداروں کی ناکامی مزید واضح ہوتی گئی، ایسے میں سپریم کورٹ کا انتظامی معاملات کو قانون کے تابع چلانے میں ناکامی کا نوٹس لینا بہت نیچرل تھا، اگر پاناما فائلز کے آنے کے بعد سیاسی جماعتیں پارلیمنٹ کی سطح پر ہی اس مسلئے کا بہتر حل نکال لیتیں تو شاید معاملہ سپریم کورٹ تک پہنچ ہی نہ پاتا، اسی طرح اگر وفاقی اور صوبائی حکومتیں صاف پانی کی فراہمی اور ملاوٹ کے خاتمے سے متعلق اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں سنجیدہ ہوتیں تو شاید پھر سپریم کورٹ کو سرکاری افسران کی سرزنش کرنے کی بھی ضرورت پیش نہ آتی قانون سے آگاہ کرنے کیلئے شہر کے کھمبوں پر اشتہار لگا دینے اور میڈیامیں اربوں کی پبلیسٹی کرنے سے ریاستی ذمہ داریاں پوری نہیں ہوتیں۔ بنیادی سی بات ہے کہ ہر خلا کو کوئی نہ کوئی پر ضرور کر دیتا ہے، اگر ریاستی ادارے اپنے فرائض کو سر انجام دینے میں ناکام ہو جائیں تو پھر عوام کی نظریں عدلیہ جیسے ریاستی اداروں کی طرف ہی اٹھتی ہیں جن سے انہیں امیدیں وابستہ ہوں، ایسے حالات میں عدالت عالیہ کے لئے بھی خود کو معاملات سے دور رکھنا ممکن نہیں رہتا، میری پوتی نے پچھلے دنوں مجھ سے یہ پوچھا کہ کیا اس شہر میں فٹ پاتھ نہیں ہیں؟ میں اس کو کیسے سمجھا سکتا تھا کہ وہ تو مافیہ کے قبضے میں ہیں جن کی بنا پر مقامی اداروں کے کا رندوں کو ہر سال اربوں روپے کی آمدنی ہوتی ہے البتہ اب میں اس کو شاید سمجھانے میں کامیاب ہو جاؤں کہ پاکستان کی سپریم کورٹ کہتی ہے کہ کسی کے گزرنے کا راستہ بند نہیں کرنے دیں گے۔ مجھے اس بات کا بھی احساس ہے کہ بیوروکریسی اور سیاستدانوں کی خواہش اور کوشش ہو گی کہ اعلی عدلیہ کے اس آئینی اختیار کو ختم کرنے کا راستہ ڈھونڈا جائے بد قسمتی یہ ہے کہ اگرمحکمے کا سربراہ معاملات کو چلانے کیلئے موجود قوانین پر عمل درآمد نہ کر واسکے تو اس سے پیدا ہونے والی انارکی کا خاتمہ کرنا کس کی ذمہ داری ہے مقامی حکومتوں کے اراکین لاوارث اور محض تالیاں بجا نے کیلئے رہ گئے ہیں حالانکہ یہ انتخابات بھی سپریم کورٹ کے حکم سے ہوئے تھے تاکہ یہ مقامی سطح پر عوام کے مسائل کو حل کرنے کیلئے کام کر سکیں عدالت کہتی ہے کہ لوگوں کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں …وہاں موجود اعلیٰ افسرا ن اس کو تسلیم بھی کرتے ہیں لیکن ان کے پاس اس سوال کا جواب نہیں ہے کہ اس صورتحال میں غریب منرل واٹر کی کتنی بوتلیں خرید کر اپنی ضروریات پوری کر سکتا ہے… ملک میں ٹیکس وصول کرنیوالے ادارے ناکام ہو چکے ہیں کیا ریاست کی آمدنی کے ذرائع پر خاموشی اختیار رکھی جائیگی یا اپنی خود مختاری کا سودا کر کے بیرونی امداد سے ملک چلایا جائیگا۔ جب یہ سوال اٹھا یا جاتا ہے تو ملک کو خطرہ لا حق ہو جاتا ہے اگر کسی روز عدالت نے ان سے یہ بھی پوچھ لیا تو کیا کڑوروں روپے کامعا وضہ لیکر حکومت کے مقدمات کا تحفظ کرنیوالے قانونی ماہرین کے پاس اسکا کوئی جواب ہو گا۔