کسی بھی ریاست کی اصل طاقت کا اندازہ اس بات سے نہیں لگایا جاتا کہ اس کے حکمران کتنے مضبوط ہیں، بلکہ اس بات سے لگایا جاتا ہے کہ اس کی سیاسی قوتیں، ریاستی ادارے اور عوام چند بنیادی سوالات پر کس حد تک متفق ہیں۔ ہمارے ہاں ستم ظریفی یہ ہے کہ قیام پاکستان کو قریباً اسی برس ہونے کو آئے ہیں، مگر ہم آج بھی اس بات پر ایک صفحے پر نہیں کہ معیشت کس سمت چلے گی، دہشت گردی کا مقابلہ کس حکمت عملی سے ہوگا اور اقتدار کا کھیل کن اصولوں کے تحت کھیلا جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ ہر نئی حکومت پچھلی حکومت کی پالیسیاں لپیٹ کر صفر سے آغاز کرتی ہے۔ ایسے میں میرے نزدیک اب ہمیں چارٹر آف اکانومی کے ساتھ ساتھ ایک چارٹر آف کاؤنٹر ٹیررزم اور ایک نئے چارٹر آف ڈیموکریسی کی ضرورت ہے، اور یہ کام کسی ایک جماعت یا ادارے کا نہیں بلکہ پورے پاکستان کا ہے۔
یہ تصور ہمارے لئے نیا بھی نہیں۔ چودہ مئی دو ہزار چھ کو لندن میں محترمہ بینظیر بھٹو اور میاں نواز شریف نے جب چارٹر آف ڈیموکریسی پر دستخط کئے تو یہ اس حقیقت کا اعتراف تھا کہ نوے کی دہائی میں ایک دوسرے کی حکومتیں گرانے اور اٹھاون ٹو بی کی تلوار کے سائے میں سیاست کرنے کا فائدہ صرف ان قوتوں کو ہوا جو جمہوریت کے ننھے پودے کو پنپتا ہوا دیکھنا ہی نہیں چاہتی تھیں۔ اس میثاق کے ثمرات بھی سامنے آئے، دو ہزار دس میں اٹھارویں ترمیم کے ذریعے آئین کا پارلیمانی تشخص بحال ہوا، اٹھاون ٹو بی کا خاتمہ ہوا اور صوبوں کو خود مختاری ملی۔ مجھ جیسے جمہوریت پسند کے لئے، جس کی نسل نے اپنی جوانی جمہوریت کی بحالی کے نعرے لگاتے تھانوں اور جیلوں میں گزار دی، یہ کسی خواب کی تعبیر سے کم نہ تھا۔
لیکن یہ کہانی کا صرف ایک رخ ہے۔ میں پہلے بھی یہ سوال اٹھاتا رہا ہوں کہ چارٹر آف ڈیموکریسی پر عمل نہ کرنا آخر کس کی غلطی تھی؟ اگر پیپلز پارٹی نے این آر او پر دستخط کر کے اس کی ناکامی میں پہلی کیل ٹھونکی تو مسلم لیگ ن نے بھی اپنے سیاسی حریف کی حکومت کے خلاف تحریک کا حصہ بن کر اس کی روح کو مجروح کیا، اور احتساب کے ادارے کے سربراہ کی تقرری کو بھی ایسی باہمی مفاہمت کا ذریعہ بنا لیا گیا جسے ناقدین آج بھی مک مکا کہتے ہیں۔ تاریخ بہت ظالم چیز ہے اور یہ کسی کو معاف نہیں کرتی۔ جہاں بھی خلا ہوگا کوئی نہ کوئی اسے پر کرنے کے لئے آگے بڑھے گا، اور جب سیاستدانوں نے خود اپنے وعدوں کا پاس نہ رکھا تو اس خلا کو پر کرنے والوں کی بھی کمی نہ رہی۔
معیشت کا معاملہ بھی کچھ مختلف نہیں۔ میں ماہر معاشیات نہیں، لیکن تاریخ بتاتی ہے کہ انیس سو اٹھاون میں جنرل ایوب خان ہوں یا انیس سو ننانوے میں جنرل پرویز مشرف، اقتدار پر قبضے کا جواز پیش کرتے ہوئے معیشت کی تباہی کو ایک اہم دلیل بنایا گیا۔ مگر کیا آمریت کے طویل ادوار نے ہماری معیشت کو اپنے پاؤں پر کھڑا کر دیا؟ اگر ایسا ہوتا تو آج بھی ٹیکس نیٹ محدود، سرکاری اداروں کے سفید ہاتھی قومی خزانے پر بوجھ اور گردشی قرضہ ایک لاینحل مسئلہ نہ ہوتا۔ چارٹر آف اکانومی کا مطلب یہ نہیں کہ تمام جماعتیں ایک جیسی معاشی سوچ اپنا لیں، بلکہ یہ ہے کہ چند بنیادی اہداف پر ایسا اتفاق رائے ہو جو حکومتوں کے آنے جانے سے متاثر نہ ہو، تاکہ سرمایہ کار کو یہ خوف نہ رہے کہ اگلی حکومت آتے ہی ساری پالیسیاں بدل جائیں گی۔
دہشت گردی کے حوالے سے ہمارا تجربہ اس سے بھی زیادہ تلخ ہے۔ دسمبر دو ہزار چودہ میں آرمی پبلک اسکول پشاور کے سانحے کے بعد جب تمام سیاسی جماعتیں اور عسکری قیادت ایک میز پر بیٹھیں اور نیشنل ایکشن پلان پر اتفاق ہوا تو امید پیدا ہوئی کہ اب دہشت گردوں سے بغیر کسی رعایت کے نمٹا جائے گا۔ لیکن انتہا پسندی اور فرقہ واریت کے خاتمے سے متعلق نکات پر عمل درآمد کی رفتار خاطر خواہ نہ رہی، فوجداری نظام انصاف کی اصلاح نہ ہو سکی اور اچھے اور برے دہشت گرد کی تقسیم بھی ختم نہ ہوئی۔ دراصل نیشنل ایکشن پلان ایک ہنگامی ردعمل تھا، جبکہ چارٹر آف کاؤنٹر ٹیررزم ایک ایسا قومی عہد ہونا چاہئے جس کی ملکیت پارلیمنٹ کے پاس ہو، جس میں پولیس اور استغاثہ کی اصلاح کا واضح نقشہ ہو اور جس میں ہر جماعت یہ عہد کرے کہ وہ ووٹ کی خاطر کالعدم تنظیموں سے وابستہ افراد کو ساتھ نہیں ملائے گی۔ ہم اسی ہزار سے زائد جانیں گنوا چکے ہیں، دودھ کا جلا تو چھاچھ بھی پھونک پھونک کر پیتا ہے، مگر ہم ہر سانحے کے بعد نیا عزم تو کر لیتے ہیں، پرانے وعدوں کا حساب کوئی نہیں مانگتا۔
یہاں یہ اعتراض یقیناً کیا جائے گا کہ جب پہلے میثاق پر ہی عمل نہیں ہوا تو نئے میثاق کی کیا ضمانت ہے؟ یہ اعتراض بے وزن نہیں، لیکن میرے نزدیک ناکامی کاغذ کی نہیں بلکہ نیت کی تھی۔ دو ہزار چھ کا میثاق صرف دو جماعتوں کے درمیان تھا، اس لئے نیا چارٹر آف ڈیموکریسی ایسا ہونا چاہئے جس میں تمام بڑی جماعتیں شریک ہوں، جس میں طے ہو کہ کوئی جماعت اپنے حریف کے خلاف غیر جمہوری قوتوں کا سہارا نہیں لے گی، انتخابی نتائج کو پرکھنے کا ایک شفاف طریقہ کار ہوگا، پارلیمنٹ حقیقی فیصلہ سازی کا مرکز بنے گی اور اختیارات بلدیاتی اداروں تک منتقل ہوں گے۔ میرا مقصد ہرگز بھی سیاستدانوں پر ساری ذمہ داری ڈال کر دوسروں کو بری الذمہ قرار دینا نہیں، مگر جب تک سیاستدان خود اپنا گھر درست نہیں کریں گے، کسی اور سے آئین کی حدود میں رہنے کا مطالبہ بھی کمزور ہی رہے گا۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہماری سیاسی قیادت اپنی انا اور وقتی مفادات سے بالاتر ہو کر ایک میز پر بیٹھنے کو تیار ہے؟ کیا حکومت اور اپوزیشن یہ تسلیم کریں گی کہ معیشت اور قومی سلامتی پوائنٹ اسکورنگ کا میدان نہیں؟ کیا ریاستی ادارے اس قومی مکالمے کو آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے تقویت دیں گے؟ اور کیا ہم بطور قوم یہ ماننے کو تیار ہیں کہ ہر مسئلے کا حل کسی مسیحا کی آمد میں نہیں بلکہ جمہوری عمل کے تسلسل میں ہے؟
یہ کام صرف سیاستدانوں کے بس کا بھی نہیں۔ معاشی میثاق کی کامیابی کے لئے ہر وہ تاجر اور شہری جو ٹیکس دینے سے کتراتا ہے اتنا ہی ذمہ دار ہے جتنا وزیر خزانہ، اور انسداد دہشت گردی کا کوئی میثاق اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتا جب تک علماء منبر سے، اساتذہ درسگاہوں سے اور میڈیا اپنی اسکرینوں سے نفرت کے خلاف ایک آواز نہ بنیں۔ افواج پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے مثال قربانیاں دی ہیں، عدلیہ آئین کی محافظ ہے اور پارلیمنٹ عوام کی نمائندہ، اگر یہ سب اپنے اپنے آئینی دائرے میں رہتے ہوئے ایک سمت میں چلیں تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم ان بحرانوں سے نہ نکل سکیں۔
ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ یہ کام بہت پہلے ہو جاتا، مگر دیر آید درست آید۔ آنے والے دنوں میں اگر ہماری قیادت نے یہ موقع بھی گنوا دیا تو شاید تاریخ ہمیں ایک اور موقع نہ دے۔ خدارا معیشت کو سیاست سے، دہشت گردی کے خلاف جنگ کو مصلحت سے اور جمہوریت کو ذاتی مفادات سے بالاتر رکھا جائے۔ معیشت، امن اور جمہوریت۔۔۔ یہ تین میثاق دراصل ایک ہی عہد کے تین نام ہیں، اور وہ عہد ہے ایک ایسے پاکستان کا جس میں ہر شہری برابر ہو اور ہر ادارہ آئین کے تابع۔
تبصرے
ابھی کوئی تبصرہ شائع نہیں ہوا
تبصرہ کرنے کے لیے لاگ اِن کریں یا مفت اکاؤنٹ بنائیں۔
لاگ اِن رجسٹر کریںابھی کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلا تبصرہ آپ کا ہو سکتا ہے۔