افتخار احمد / مجھے عوام سے ،جواب چاہئے!
لفظوں کا انتخاب تحریر کے لہجے کو متعین کرتا ہے۔ یہ ایک نمونے کا جملہ ہے جو صرف ڈیزائن اور ترتیب کی جانچ کے لیے لکھا گیا ہے۔
لفظوں کا انتخاب تحریر کے لہجے کو متعین کرتا ہے۔ یہ ایک نمونے کا جملہ ہے جو صرف ڈیزائن اور ترتیب کی جانچ کے لیے لکھا گیا ہے۔
ایک ماہ بعد ملک کے عوام آئندہ پانچ سالوں کے لئے نئی حکومت چننے جارہے ہیں اور توقع ہے کہ اس بار انتخابات میں کانٹے کا مقابلہ دیکھنے کو ملے گا۔ سب سے بڑا مقابلہ
آج سے قریباً ڈیڑھ ماہ بعد پاکستان کے عوام آئندہ پانچ سال کے لئے نئی قومی اور صوبائی اسمبلیوں کو منتخب کریں گے۔ جولائی کے مہینے میں تپتے سورج اور شدید حبس کی
اکتیس مئی کی شب بارہ بجے اسمبلیاں اپنی آئینی مدت پوری ہونے کے بعد تحلیل ہو گئیں۔ ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ جمہوری عمل کو دس سال کا تسلسل میسر ہوا۔ اس دوران دو
اپریل کے آغاز میں جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کے نام سے قائم ہونے والے پریشر گروپ نے چند روز پہلے پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ انتخابی اتحاد کا اعلان کر دیا۔ آنے والے
جمہوریت عوام کے حق حکمرانی کو تسلیم کر نے کا نام ہے، لیکن کیا عوام کا یہ حق کسی بھی قدغن سے آزاد ہے؟ پاکستان کے تناظر میں دیکھا جائے تو آئین کا آرٹیکل باسٹھ
پچھلے سال جولائی میں جب اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے کے بعد وزارت عظمیٰ سے ہاتھ دھوبیٹھے، تو ان کی جماعت میں مستقبل کے لائحہ عمل
چند روز قبل جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے آٹھ ممبران اسمبلی نے مسلم لیگ نواز سے کنارہ کشی اختیار کرتے ہوئے ایک نئے محاذ کی تشکیل کا اعلان کیا۔ پنجاب کے جنوبی
چند دن پہلے راولپنڈی کے سپوت کہلائے جانے والے شیخ رشید نے میڈیا میں جوڈیشل ایمرجنسی کے الفاظ متعارف کرواتے ہوئے دعویٰ کیا کہ شفاف انتخابات عدلیہ کی زیر نگرانی
ایوب خان کے خلاف تحریک چل چکی تھی، مزدوروں اور کسانوں کی طرح طلباء بھی بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکل آئے تھے۔ لاہور میں ان دنوں ہر روز احتجاجی جلوس نکلتا تھا اور
آخر کار سینیٹ کے انتخابات بھی وقت پر ہو ہی گئے اوراس حوالے سے گزشتہ ایک سال سے پھیلائی جانے والی سازشی تھیوریاںبالآخر دم توڑ گئیں۔ پچھلے ایک سال کے دوران جہاں
اٹلی کا شمار یورپ کے خوبصورت ترین ملکوں میں ہوتا ہے، چاہے وہ اطالوی الپس کی حسین وادیاں ہوں یا پھردنیا کا فیشن کیپٹل میلان، جس کے سٹی سینٹر میں موجود دکانوں پر